Ticker

6/recent/ticker-posts

خمار بارہ بنکوی صاحب کی ایک لازوال غزل

  مشہور شاعر خمار بارہ بنکوی کی ایک خوبصورت غزل درج ہے。 ان کی مختصر سوانح حیات (Biography) درج ذیل ہے:



​خمار بارہ بنکوی: مختصر تعارف


​خمار بارہ بنکوی (جن کا اصل نام محمد خلیل خان تھا) اردو ادب کے ایک انتہائی معتبر اور مقبول شاعر گزرے ہیں。


​پیدائش: وہ 15 ستمبر 1919ء کو بارہ بنکی، اتر پردیش (بھارت) میں پیدا ہوئے。


​شاعری کا انداز: ان کا تعلق کلاسیکی روایت سے تھا。 وہ اپنی غزلوں میں ترنم، سادگی اور تغزل کے لیے مشہور تھے。 ان کی شاعری میں درد، محبت اور انسانی جذبات کی عکاسی بڑی خوبصورتی سے ملتی ہے。


​مشہور کتب: ان کے شعری مجموعوں میں 'حدیثِ دیگر'، 'آتشِ تر' اور 'رقصِ مے' شامل ہیں。


​وفات: اردو شاعری کا یہ درخشندہ ستارہ 19 فروری 1999ء کو غروب ہوا。


​تصویر میں موجود غزل


​تصویر میں ان کی یہ مشہورِ زمانہ غزل لکھی ہے:


​وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں


جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں


​وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں


محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں


​سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں


تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں


​ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی


وہ پتھر مرے گھر میں آنے لگے ہیں


​یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو


یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں


​ہوائیں چلیں اور نہ موجیں ہی اٹھیں


اب ایسے بھی طوفان آنے لگے ہیں


​قیامت یقیناً قریب آ گئی ہے


خمار اب تو مسجد میں جانے لگے ہیں


​کیا آپ اس غزل کی تشریح یا خمار صاحب کے بارے میں مزید کچھ جاننا چاہیں گے؟

Post a Comment

0 Comments