محسن نقوی اردو ادب کے وہ نامور شاعر ہیں جن کے کلام میں درد، خودداری اور معاشرتی سچائیوں کا گہرا عکس ملتا ہے۔ اس ویڈیو میں ان کی ایک بے حد خوبصورت اور مشہور غزل پیش
کی جا رہی ہے جس کا مطلع ہے:
"مرحلے شوق کے دشوار ہوا کرتے ہیں"
مر حلے شوق کے دشوار ہوا کرتے ہیں
سائے بھی راہ کی دیوار ہوا کرتے ہیں
وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں
وہ عدالت میں گنہگار ہوا کرتے ہیں
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خود دار ہوا کرتے ہیں
وہ جو پتھر یونہی رستے میں پڑے رہتے ہیں
اُن کے سینے میں بھی شہکار ہوا کرتے ہیں
صبح کی پہلی کرن جن کو رُلا دیتی ہے
وہ ستاروں کے عزادار ہوا کرتے ہیں
جن کی آنکھوں میں سدا پیاس کے صحرا چمکیں
در حقیقت وہی فنکار ہوا کرتے ہیں
شرم آتی ہے کہ دشمن کسے سمجھیں محسنؔ
دشمنی کے بھی تو معیار ہوا کرتے ہیں
اس غزل میں انہوں نے انسانی انا، سچائی کی قیمت اور دشمنی کے معیار جیسے اہم موضوعات کو نہایت عمدگی سے بیان کیا ہے۔ اگر آپ کو اردو شاعری اور محسن نقوی کا کلام پسند ہے، تو اس ویڈیو کو لائک کریں اور ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔:
#MohsinNaqvi #UrduPoetry #UrduGhazal #MohsinNaqviPoetry #PoetryStatus #UrduAdab #SadUrduPoetry #BestUrduPoetry #محسن_نقوی #اردو_شاعری #غزل #شاعری
0 Comments